بھٹکل:9/ نومبر (ایس اؤنیوز)کرناٹکا حکومت کے زیراہتمام ریاست بھر میں منائی جارہی حضرت ٹیپو سلطان جینتی اور 13نومبر کو بھٹکل میں آنے والی بی جے پی کی پریورتنا ریلی کے سلسلے میں مغربی زون کے آئی جی پی ہیمنت نمبالکر نے جمعرات کی شام بھٹکل کا دورہ کرتے ہوئے حفاظتی انتظامات کا معائنہ کیا اور شرپسند عناصر اور دیگر حالات کی جانکاری حاصل کی۔
آئی جی پی نے بھٹکل کے اعلیٰ افسران کے ساتھ یہاں کی سرگرمیوں کے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے بعد امن کو بحال رکھنے کے سلسلے میں پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ ٹیپو جینتی کو لے کر بی جے پی اور سنگھ پریوار کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے آئی جی پی کا بھٹکل دورہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ بار بار عوامی ماحول کو خراب کرنے والے شر پسند عناصر کی فہرست حاصل کرتے ہوئے ان کی فی الحال جاری سرگرمیوں اور چال چلن کا تجزیہ کرنے کے بعد آئی جی پی نےافسران کو حکم دیا کہ کوئی بھی ہو، جو بھی قانون کو ہاتھ میں لیتاہے بلا رو رعایت سخت کارروائی کریں۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق آئی جی پی نے اس کے ساتھ ساتھ 13نومبر کو بی جے پی کی پریورتنا ریلی کے موقع پر جمع ہونےو الی بھیڑ اور سواریوں کی تعداد کے متعلق بھی جانکاری حاصل کی اور کچھ ہنگامہ خیزی ہوتی ہے تو اس کو کس طرح قابو میں لانا ہے، اُس سلسلے میں افسران کے ساتھ غوروخوض کیا۔
اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے مغربی زون کے آئی جی پی ہیمنت نمبالکر نے بتایا کہ ان کا بھٹکل دورہ کوئی خاص اہمیت کا حامل نہیں ہے ، ٹیپو جینتی اور بی جے پی کی پریورتنا ریلی کے سبب منگلورو، اُڈپی، کاروار اضلاع میں حفاظتی انتظامات کا معائنہ کررہے ہیں۔
ریاستی حکومت کو آئندہ ہونے والے ودھان سبھا انتخابات کے پیش نظر کرناٹکا کی ساحلی پٹی پر فرقہ وارانہ فسادات برپا کئے جانے کے امکانات کی رپورٹ موصول ہو ئی تھی۔ اسی پر کارروائی کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے ریاست بھر میں جرأت مندآفیسر کے طورپر شہرت پانے والے ہیمنت نمبالکر کو مغربی زون آئی جی پی کے عہدے پر تبادلہ کیا تھا۔ موصوف چارج سنبھالنے کے دن سے ہی ساحلی پٹی پر شدید حساس کے طورپر مشہور بھٹکل اور منگلوروپر خصوصی کڑی نگرانی کرتےہوئے اس کی حفاظت میں مصروف ہیں، اور اس معاملے میں ہیمنت نمبالکر کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل آئی جی پی کے عہدے پر فائز پرتاپ ریڈی کے بعد ایک لائق ذی استعداد، وفادار، راست باز اوردیانتدار آفیسر کا ساحلی پٹی کے اہم عہدے پر فائزہ ہونے سے عوام میں اطمینان اور اعتماد کی فضا پھیلی ہے۔